آٹو موبائل کی تاریخ وترویج اور اس کے کمپوینیٹس
History of Automobile & its Components
History of Automobileآٹو موبائل کی
تاریخ
زمانہ قدیم میں ٹرانسپورٹ کے لیے ٹرینڈ کیے ہوئے جانور
استعمال ہوتے تھے۔ ان میں گدھے، گھوڑے ، اونٹ اور بیل شامل تھے۔ بار برداری اسپیڈ
اور طے کردہ فاصلہ کے لحاظ سے یہ ذرائع بڑے محدود تھے اور جسمانی مشقت کی وجہ
انسان ایسی ٹرانسپورٹ کو بھی نہیں کرتا تھا۔
وقت کے ساتھ انسان نے ٹرانسپورٹ کے ایسے ذرائع کی تلاش جاری
رکھی جس میں مشقت نہ ہو اور ٹرانسپورٹ تیز ہو۔
اٹھارویں صدی کی ساتویں دھائی میں(1770ء) ایک فرانسیسی نکولس کگنوٹ (Nicholas Cugnot) نے
پہلی گاڑی بنائی جو اپنی پاور سے چلتی تھی۔ یہ تین پہیوں والی کوچ تھی ۔ اس میں
ایک سٹیم انجن لگا ہوا تھا جوکہ ابھی ساخت
کے بنیادی مراحل میں تھا۔ یہ گاڑی بہت آہستہ چلتی تھی آئندہ تین سال تک گاڑ ی مراحل میں رہی۔ 1802ء
میں انگلینڈ کے رچرڈ ٹری وٹلک (Richard Tre
Vitluck)نے ایک سٹیم انجن
بنایاجس میں پہلی دفعہ کرینک شافٹ استعمال کی گئی۔1821ء میں انگلینڈ کے ہی گریفتھ(Griffth) نے
پہلی آرام دہ سٹیم انجن والی گاڑی بنائی۔پٹرول انجن سے چلنے والی
پہلی گاڑی 1863ء میں بنی جسے فرانسیسی سائسندان لینوئر (Lenoir)نے بنایا۔ اس میں ایک سلنڈر کاپٹرول انجن لگا ہوا تھا۔ اگلے
چند سالوں میں انجنوں اور بو گیوں پر بہت سا
تجر باتی کام ہوا۔ اس کام میں بیلیجم کے سائنسدان ایٹینی لینوئر(Etenne Lenoir) بھی شامل تھے اس طرح آٹو مو بائل کی ایک مخصوص شکل بن گئی جس میں
انٹرنل کمبسچن انجن لگا ہوا تھا معرِ ض وجود میں آگئی اس وقت اس کو سیڈان
(جھولا) کہتے ہیں۔
1876 ء میں جرمنی کے آٹو اور لینگن (Otto + Langan)نے
بھی ایک انجن ایجاد کیا ۔ تاہم جدید اور ماڈرن آٹو مابائل کی ڈویلپمنٹ 1885 ء میں
اس وقت شروع ہوئی۔ جب ایک جرمن سائنسدان انجینئر جس کانام ڈیملر (Daimler)تھا نے ایک انٹرنل کمبسچن انجن بنایا اور اسے بایئسایئکل
میں نصب کیا۔ اس میں پٹرول طرح کا فیول استعمال ہوتا تھا۔ 1886ء میں ایک اور جرمن
کارل بینز (Carl Benz) نےایک ٹرائی سائیکل ایجاد کیا جس کو آٹو سائیکل کے مطابق
چلنے والا ایک انٹرنل کمبسچن انجن چلتا
رہا ۔ یہ 10 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتا تھا اور اس کی طاقت 8 ہارس پاور(6KW) تھی ۔ اس وقت آٹوموبائل کی تاریخ میں اس کامیابی بڑی کامیابی
سمجھا گیا۔
جب یہ ایجادات ہو ریہ تھی امریکن بھی حرکت میں آگئے 1895ء
سے پہلے چارلس ای دوریا (Charlas
E Durya) اور ایلوڈجے
ہینس (Elwood J Haynes)
نے بھی اپنے ملک میں ایک گاڑی تیار کر لی۔ اسی سال فرانس میں بھی پینارڈ (Panhard)اور لیواسر(Levassor) نے بھی اسی طرح کی ایک گاڑی تیار کی اور آج
سے تقریباَ 110سال قبل ہینہارڈ نے چیسس کے فرنٹ پر ایک انجن لگایا جس کے ساتھ
سلائیڈنگ میش والا گئیر بکس بریک پیڈل ، کلچ اور ایکسیلیٹر لگا ہوا تھا ۔ فران سکی
فرم ڈیملر(Daimler) گاڑیاں بنانے میں پہلی شمار ہوتی ہے ۔ ان
کی گاڑیوں میں فران سکی فرم ڈیملر(Daimler) گاڑیاں بنانے میں شمار ہوتی ہے۔ ان کی گاڑیوں میں فرنٹ پر انجن
ٹرانسمیشن اور پچھلے ویلوں تک پاور
پہنچانے کے لئے ڈرائیوچین شامل تھیں اسی طرح دیگر سائنسدانوں میں ہنرے فورڈ (Henry Ford) ران سن اولڈ(Ranson Old)الیگزینڈر ونسٹن (Alexander Winston) اور چارلس کنگ (Charles King)
نے بھی 1896ء تک کامیابی سے گاڑیاں بنالیں۔ 1900ء سے 1906تک
ان گاڑیوں کا بنانا اور فروخت کرنا ایک کاروبا ر بن گیا۔ گاڑیاں بنانے والی بڑی
بڑی فرمیں کرسلر (Chrysler) فورڈ ، کیڈلک، بیوک ، ناش اولڈز موبائل ،
اوورلینڈ پیکارڈ ، آٹو کار، وہائیٹ تھیں ۔ اس کے بعد گاڑیوں کی ڈویلپمنٹ میں متعدد
آئیڈیائز یکے بعد دیگرے آئے اور بہتر ہوتے گئے اور انہی کے مطابق گاڑیوں کی خاص پروڈکشن
شروع ہوگئی امریکہ اور یورپ میں مقابلے کی فضا شروع ہوگئی ۔ گاڑیوں کے پرزے ایسے
بننے لگے جو ایک دوسری گاڑیوں میں بھی فٹ ہوسکتے تھے ،(سٹینڈرڈ) سکریو ، نٹ اور
پیچ کے سٹینڈرڈ مقرر ہوگئے اور اسی کے مطابق بننے لگے جس سے گاڑیوں کی قیمتیں کم
اور پرزوں کی تبدیلی آسان ہوگئی۔ 1920ء کے بعد گاڑیوں کے ڈیزائن میں بتدریج بہتری
کا وقت شروع ہوا۔ انجن کی سپیڈ ، مظبوطی ، وزن ، توازن ، تھرتھراہٹ سے نجات شور ،
کولنگ ، سڑیم لائن اور مختلف فیول کے حوالے سے تبدیلیاں آیئں ۔ انجن چیسسز کے فرنٹ
پر فٹ ہوتا تھا۔ سلائیڈنگ گیئرٹرانسمیشن اور پوپٹ والو معرضِ وجود میں آ چکے تھے۔
ماڈرن وہیکل میں کم شور اور کم پولوشن والے پاور پاور پانٹ
پر زور دیا جاتا ہے اور اب ایسی گاڑیاں تیار کی جارہی ہیں۔ جو سستی ، بہتر، محفوظ
ہوں اور ان میں الیکٹرونک اور کمپیوٹرائیزڈ کنٹرول سسٹم لگے ہوئے ہوں۔ آج کل دنیا
میں جاپان، امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی ، سویڈن ، اٹلی اور کوریا گاڑیاں
بنانے والے بڑے ملک ہیں۔
1970ء سے پاکستان میں بھی کچھ جاپانی کاروں کی اسمبلنگ شروع
ہوگئی ہے ۔ علاوہ ازیں چھوٹی بڑی گاڑیوں کے پرزے بھی بنائے جارہے ہیں ۔ ایسے پرزے
بنانے والوں کو وینڈر ز کہتے ہیں
گاڑیوں کی درجہ بندی
1: مسافروں
والی گاڑیاں
2: ساما ن اٹھانے والی گاڑیاں Goods Transport
Vehicle
مسافر گاڑیوں کی
مزید دو قسمیں کی جا سکتی ہیں۔
Ø
Heavy Duty گاڑیاں: ان میں
بس ، منی بس، کوچ ، لاری شامل ہیں ۔ کوچ میڈیم اور بڑے سائز کی بھی ہوتی ہے ۔ ائیر
کنڈیشنڈ بھی ہوتی ہیں
Ø
لائیٹ دیوٹی گاڑیاں : اس میں آتو سائیکل سکوٹر ، موٹر
سائیکل اٹو رکشہ ، جیپ ، وین ، ویگن اور کاریں شامل ہیں۔
ساما ن اٹھانے والی گاڑیاں
دو قسموں میں تقسیم کی جاسکتی ہیں۔
Ø
لائیٹ ڈیوٹی مثلاَ : پک اپ اور چھوٹے ٹرک۔
Ø
ہیوی ڈیوٹی مثلاَ چھ ویلر ٹرک ، ٹریلر ، ٹریکٹر ٹرالی ،
کیٹینر، ٹنکر یا کرین وغیرہ،
گاڑی کے بڑے بڑے حصےMain components of Auto Mobile
گاڑی کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے،
I.
انجن یا پاور پلانٹ : اسے پاور سورس بھی کہتے ہیں
II.
فریم یا انجن: ویل اور باڈی کو سہارا دیتا ہے،(انجن وہیل
اور باڈی فریم کے اوپر فٹ ہوتے ہیں)
III.
پاور ٹرین : اس
ٹرین کے ذریعے انجن کی پاور وہیلوں تک منتقل ہوتی ہے۔ اس میں کلچ ، ٹرانسمیشن
(گئیر باکس) ڈرائیو شافٹ (پروپیلر شافٹ) ڈفرنشیل اور رئیر ایکسل۔
IV.
کار باڈی ، اسسریز(Accessories): اس میں گاڑی کی
لائٹیں ، ہیٹر، ریڈیو ، وائپر بلیڈ، اشارے(indicator) اور ہر وہ چیز
شامل ہے جو گاڑی کو چلانے میں ڈرائیور کی مدد کرتی ہیں۔
V.
الیکٹرونک کنٹرول ماڈیول(Electronic Control Module)
اگر آپ کو ہماری یہ پوسٹ اچھی لگی ہے تو اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر کریں۔



0 Comments
Please comment for any question. Best Regards